نئی دہلی، 19؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)کے ایک لیڈر نے منگل کو کہا کہ ہندوگرنتھوں میں بیف کھانے کو جرم نہیں بتایا گیا ہے اور انہوں نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو اس معاملے پر بحث کرنے کا چیلنج دیا ۔غورطلب ہے کہ بھاگوت نے حال ہی میں گؤ کشی پر پورے ملک میں پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔این سی پی کے جنرل سکریٹری ڈی پی ترپاٹھی نے گؤ رکشک تنظیموں کی سرگرمیوں کو ہندو مخالف بتایا۔انہوں نے دعوی کیا کہ سوامی وویکانند، جن کے وزیر اعظم نریندر مودی عقیدت مند ہیں، وہ نہ صرف گوشت کھاتے تھے، بلکہ گوشت پکاتے بھی تھے، کیا ان لوگوں (گؤ رکشکوں )کے لیے ان مشہور شخصیات کو جیل بھیجنا ممکن تھا۔راجیہ سبھا رکن ترپاٹھی نے کہا کہ ویدوں میں کہیں نہیں لکھا کہ بیف کھانا جرم ہے۔گرنتھوں میں، ویدوں میں یہ کہیں نہیں لکھاہے ، میں بھاگوت یا ان کسی بھی نمائندے کو سبھی ہندو گرنتھوں کی بنیاد پر مباحثہ کا چیلنج دیتا ہوں۔ترپاٹھی نے دعوی کیا کہ بڑی تعداد میں ہندو سمیت 80فیصد لوگ گوشت کھاتے ہیں ۔گؤ کشی پر پابندی لگانے کی بھاگوت کی تجویز آئین کی روح کے منافی ہے۔